ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کولکاتہ:مسلم پرسنل لاء بورڈ تمام مکتبہ فکر کا نمائندہ ادار ہ ہے : بورڈ کا سہ روزہ اجلاس عام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

کولکاتہ:مسلم پرسنل لاء بورڈ تمام مکتبہ فکر کا نمائندہ ادار ہ ہے : بورڈ کا سہ روزہ اجلاس عام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

Sun, 20 Nov 2016 19:42:07    S.O. News Service

کولکاتہ:22/نومبر (ایس او نیوز)ہم نے شادی ، طلاق ، میراث ، متبنٰی و دیگر عائلی معاملات میں شرعی نقظۂ نظر پیش کرتےہوئے کہا کہ شرعی قوانین چوں کہ قرآن وحدیث سے ماخوذہیں اور یہ قوانین الہٰی ہیں اس لئے ان شرعی قوانین میں کسی بھی شخص یا پھر اتھارٹی کو کسی قسم کی تبدیلی کرنے کاکوئی حق حاصل نہیں ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے عدالت کو بتایا کہ بورڈ ان تمام مسائل پر فریق بننے کا مجاز ہے۔کیونکہ بورڈ ملک کے تمام مکتبۂ فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کیا گیا ہے۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ  کا سہ روزہ 25واں اجلاس ِ عام کولکاتہ میں اپنے ایجنڈے کے تمام نکات پر سنجیدگی کے ساتھ غوروفکر کرنے کے بعد اتوار کو اختتام پذیر ہوا۔ آخری دن مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سےجاری کی گئی ریس ریلیز مندرجہ بالا نکات کے ساتھ  اجلاس میں تین دن  تک چلنے  والی تمام کارروائیوں کی جانکاری دی گئی ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ میں داخل اپنے حلف نامہ میں تفصیل کے ساتھ اپنے موقف کو پیش کیا ہے۔ اس بات کا علم ہونے کے بعد مرکزی حکومت سپریم کورٹ میں اس مسئلے پر اپنا موقف پیش کرنے والی ہے تو مسلم پرسنل لاء بورڈ نے وزیر اعظم اور پانچ کابینی وزراء کو رجسٹری خط کے ذریعہ رابطہ کیا اور انہیں شرعی نقطۂ نظر سے آگاہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ اور ملک کی تمام مذہبی آزادی اکائیوں کو آئینی ضمانتیں دی گئی ہیں اور انہیں اپنے مذاہب پر عمل کرنےکی مکمل آزادی حاصل ہے۔ بورڈ نے بالکل واضح انداز میں کہا ہے کہ وہ ملک کے تمام آئینی اداروں کا احترام کرتی ہے مگر اس کے ساتھ ہی لاکمیشن کے ذریعے پوچھے گئے سوالات نہ صرف حساس مسائل کے ساتھ چھیڑ خانی ہے بلکہ پرسنل لاء کو ختم اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی راہ ہموار کرنےکی حکومت کی بدنیتی بھی ظاہر ہوتی ہے۔ بورڈ نے لاء کمیشن کے سوالات کا بائیکاٹ کرنے کی بات کہی ہے تو وہیں کروڑوں افراد کی جانب سے دستخطی مہم میں شریک ہوکر بورڈ کی بھرپور تائید کرنے کا اظہار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے نام نہاد مسلم سماجی کارکنان کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کہاکہ آرٹی آئی اور ذاتی طورپر حاصل کئے گئے اعدادو شمارات واضح کرتے ہیں کہ مسلم سماج میں تین طلاق اور تعدد ازدواج کی شرح دیگر مذاہب کے مقابلے میں سب سےزیادہ کم ہے۔ اس کے ساتھ ہی بتایا کہ سماجی اصلاح کے لئے بورڈ سرگرم ہے، ریلیز میں مرد وخواتین کے لئے بنائے گئے ماڈل نکاح نامہ کو استعمال کرنےکی اپیل بھی کی ۔ اس طر ح کے عائلی مسائل کے زالہ اور خوش گوار زندگی کے لئے زیادہ سے زیادہ دارلقضاء قائم کرنےپر غوروخوض ہوا۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ کی سطح پر ایک ٹیم بنانے کا فیصلہ لیا گیا ہے تاکہ بورڈ وکلاء کی ٹیم وکلاء سے رابطہ کرکے انہیں اسلامی قوانین سے آگاہ کرے۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے  ملک بھر میں جاری ’’ دین و دستور بچاؤ تحریک ‘‘کے سلسلے میں بتایا گیا کہ اچھے نتائج مل رہے ہیں، ملک کے مختلف طبقات، دلت ، آدی باسی ، عیسائی ، سکھ ، بدھشٹ، امبیڈکر وادی اور دیگر طبقات نے بورڈ کے موقف کی تائید کرتےہوئے اپنے تعاو ن و شریک عمل کی یقین دہائی کرائی ہے۔ بورڈ نےکہا ہے کہ اقلیتوں سمیت دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے بنیادی حقوق میں دخل اندازی کی گئی تو ملک کے اتحاد وسالمیت کو نقصان پہنچ سکتاہے۔ مسلمانوںسے اپیل کی گئی کہ وہ ملک کے اقدار کا تحفظ کریں۔

بورڈ کے سہ روزہ اجلاس میں خواتین کی شرکت پر جانکاری دی گئی ہے کہ بورڈ کی 50خواتین ممبر سمیت 75سے زائد خواتین نہ صرف اجلاس میں شریک ہوئیں بلکہ مختلف ایجنڈے کی بحث میں شامل ہوکر اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔ بورڈ نے ایک تاریخی فیصلہ لیتے ہوئے ڈاکٹر اسماء زہرا کی کنونیر شپ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ میں خواتین کا ایک ونگ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ونگ کے ذریعے ملک بھر میں سماجی تحریک چلائے جانے کی بات کہی ہے۔ جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بورڈ نے  گھریلو اختلافات میں خواتین کی مدد ورہنمائی کے لئے اردو، انگلش سمیت دیگر 8زبانوں میں مسلم وومن ہیلپ لائن ٹال فری نمبر بنانے کا بھی فیصلہ لیاہے۔ سہ روزہ اجلاس میں متفقہ رائے سے بورڈ کے صدر کا انتخاب ہوا۔ نئی مجلس عاملہ کی تشکیل کی گئی ، صدر نے نئے عہدیداران کا انتخاب کیا، اور عہدیداران نے صدر کے ذریعے دی گئی ذمہ داریوں کو اتفاق رائے سے قبول بھی کیا ہے۔ بورڈ نے مجلس استقبالیہ کے صدر ، ان کی ٹیم جس طرح تین روز تک اجلاس عام کا شاندار انعقاد کیا اور انتظامات کئے اس پر انہیں مبارکبادی پیش کرتے ہوئے شکریہ اداکیا ہے۔


Share: